آج میں امی سے مل کر آئی ہوں
آج تمہاری امی سے مل کر آئی ہوں
سر پر ہاتھ رکھا تو مانو روح تلک تاثیر گئی تھی
اک پل کو محسوس ہوا کہ
دکھ، درد سبھی کہیں دور کھڑے حسرت سے مجھ کو تکتے ہوں
ہم نے ڈھیروں باتیں کیں
پوچھ رہی تھیں
کتنا پڑھ لیا؟
کچھ چائے کے علاوہ بھی بنا لیتی ہو؟
(ساتھ ہنسی تھیں، جیسے انہیں پہلے سے معلوم ہو کہ میں "نا" کہہ دوں گی)
میں نے بھی پھر ان سے ان کی صحت کا پوچھا
خیال رکھنے کی تاکید کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے ان کو دوا بھی دی تھی
باتوں باتوں میں جب ذکر تمہارا آیا
میرے چہرے پر جو رنگ آیا تھا
وہ غیر ارادی تھا
پر وہ یکدم چونک گئی تھیں
تو کیا تم نے ان کو ہمارے بارے میں؟
اچھا خیر اسے چھوڑو
میں کیا کہہ رہی تھی؟
ہاں آج تمہاری امی
لیکن ٹھہرو
یہ تمہاری کیا ہوتا ہے؟
آج میں امی سے مل کر آئی ہوں
مالا راجپوت
No comments:
Post a Comment