Wednesday, 9 June 2021

دریائے شب کے پار اتارے مجھے کوئی

 دریائے شب کے پار اُتارے مجھے کوئی

تنہائی ڈس رہی ہے پکارے مجھے کوئی

گو جانتا ہوں سب ہی نشانے پہ ہیں یہاں

پاگل ہوں چاہتا ہوں نہ مارے مجھے کوئی

مُٹھی صدف نے بھینچ رکھی ہے کہ چھُو کے دیکھ

موتی پُکارتا ہے؛ اُبھارے مجھے کوئی

کانٹوں میں رکھ کے پھُول ہوا میں اُڑا کے خاک

کرتا ہے سو طرح سے اشارے مجھے کوئی

اب تک تو خودکشی کا ارادہ نہیں کیا

ملتا ہے کیوں ندی کے کنارے مجھے کوئی

بکھرا ہوا ہوں وقت کے شانے پہ گرد سا

اک زُلفِ پُر شکن ہوں سنوارے مجھے کوئی


مظفر حنفی

No comments:

Post a Comment