تھے مِرے زخموں کے آئینے تمام
داغ داغ آئے نظر سینے تمام
سب نظر آتے ہیں چہرے گرد گرد
کیا ہوئے بے آب آئینے تمام
ایک منزل اور ہے اک جست اور
آدمی طے کر چکا زینے تمام
موت لے کر ایک آندھی آئی تھی
کھو دئیے انسان بستی نے تمام
تازگی چہرے پہ اب تو لائیے
پی لیا ہے زہر کیفی نے تمام
حنیف کیفی
No comments:
Post a Comment