میں خود آگاہ ہوتی جا رہی ہوں
تیرے ہمراہ ہوتی جا رہی ہوں
زمانہ دیکھ کے کہتا ہے مجھ کو
کہ میں گمراہ ہوتی جا رہی ہوں
نجانے کب وہ ٹھوکر مار ڈالے
میں سنگِ راہ ہوتی جا رہی ہوں
ملی ہے جب سے مجھ کو تیری نسبت
میں مثلِ ماہ ہوتی جا رہی ہوں
ہے چادر اوڑھ لی چاہت کی جب سے
سبھی کی چاہ ہوتی جا رہی ہوں
شاہانہ ناز
No comments:
Post a Comment