Thursday, 10 June 2021

حریم دل میں ٹھہر یا سرائے جان میں رک

 حریم دل میں ٹھہر یا سرائے جان میں رک

یہ سب مکان ہیں تیرے کسی مکان میں رک

ابھی میں جوڑ رہا ہوں یقین کا پیالہ

تُو ایسا کر کہ ابھی کاسۂ گمان میں رک

میں تجھ کو باندھ لوں اپنی غزل کے شعروں میں

خیال یار! ذرا دیر میرے دھیان میں رک

بہت سی قوس قزح بن رہی ہیں آنکھوں میں

اے ہفت رنگ پری میری داستان میں رک

میں اپنے شعروں کا معیار کچھ بلند کروں

مِرے حروف میں ضم ہو مِری زبان میں رک


اطہر ضیا

No comments:

Post a Comment