Thursday, 10 June 2021

آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہے

 آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہے

قصہ یوسف کا دہرایا جا سکتا ہے

ساری دنیا کو ٹھکرایا جا سکتا ہے

حسن اور عشق دعا سے پایا جا سکتا ہے

جو مجھ میں ہو زلیخا تجھ میں یوسف کوئی

عمروں کا سرمایہ لایا جا سکتا ہے

اس کو کہنا مری آنکھوں کے کاسے میں

دید کا اک سکہ تو دکھایا جا سکتا ہے

ناداں اتنا مت سمجھو تم دل کو عنبر

کب یادوں سے اسے بہلایا جا سکتا ہے


نادیہ عنبر لودھی

No comments:

Post a Comment