عاشقی ماہتاب جیسی ہے
روشنی کی کتاب جیسی ہے
تشنگی لے کے لوگ آتے ہیں
اپنی قسمت شراب جیسی ہے
یہ بدن ہو گیا ہے خوشبو سا
بے خودی بھی گلاب جیسی ہے
تیری فطرت میں ہے تلخی جو
میرے خط کے جواب جیسی ہے
یاد بکھری ہوئی ہے چاروں اور
یہ ریاست نواب جیسی ہے
موت نے اوڑھے ہیں سب چہرے
زندگی تو نقاب جیسی ہے
دل کی باتیں سحر جی کہہ ڈالو
شاعری بھی نصاب جیسی ہے
عفراء بتول سحر
No comments:
Post a Comment