Thursday, 10 June 2021

عاشقی ماہتاب جیسی ہے

 عاشقی ماہتاب جیسی ہے

روشنی کی کتاب جیسی ہے

تشنگی لے کے لوگ آتے ہیں

اپنی قسمت شراب جیسی ہے

یہ بدن ہو گیا ہے خوشبو سا

بے خودی بھی گلاب جیسی ہے

تیری فطرت میں ہے تلخی جو

میرے خط کے جواب جیسی ہے

یاد بکھری ہوئی ہے چاروں اور

یہ ریاست نواب جیسی ہے

موت نے اوڑھے ہیں سب چہرے

زندگی تو نقاب جیسی ہے

دل کی باتیں سحر جی کہہ ڈالو

شاعری بھی نصاب جیسی ہے


عفراء بتول سحر

No comments:

Post a Comment