Sunday, 13 June 2021

آرزوئیں کمال آمادہ زندگانی زوال آمادہ

 آرزوئیں کمال آمادہ

زندگانی زوال آمادہ

زندگی تشنۂ مجال جواب

لمحہ لمحہ سوال آمادہ

زخم کھا کر بپھر رہی ہے انا

عاجزی ہے جلال آمادہ

کیسے ہموار ہو نِباہ کی راہ

دل مخالف،۔ خیال آمادہ

پھر کوئی نشتر آزما ہو جائے

زخم ہیں اندمال آمادہ

ہر قدم پھونک پھونک کر رکھیے

رہگزر ہے جدال آمادہ

ہر نفس ظرف زما کیفی

ہر نظر اشتعال آمادہ


حنیف کیفی

No comments:

Post a Comment