اداس چہروں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
بے نور لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھے
کوئی تو بنجر دلوں کو سیراب کرنے آئے
پھر ان دلوں کو گلاب کرنا کوئی تو سیکھے
ہزاروں سپنے تری محبت میں ہیں جو دیکھے
مِری یہ تعبیر خواب کرنا کوئی تو سیکھے
یزیدیت کا ہے دور اور ظلم بڑھ رہا ہے
خدا کی خاطر سناں پہ چڑھنا کوئی تو سیکھے
جو مال کھاتے ہیں بیکسوں کا وہ لوگ سن لیں
غریب لوگوں کی آہ سے ڈرنا کوئی تو سیکھے
سحر کا دم گھٹ رہا ہے شب کی وحشتوں سے
طلوع صبحِ جمال کرنا کوئی تو سیکھے
عفراء بتول سحر
No comments:
Post a Comment