Sunday, 13 June 2021

اداس چہروں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے

 اداس چہروں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے

بے نور لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھے

کوئی تو بنجر دلوں کو سیراب کرنے آئے

پھر ان دلوں کو گلاب کرنا کوئی تو سیکھے

ہزاروں سپنے تری محبت میں ہیں جو دیکھے

مِری یہ تعبیر خواب کرنا کوئی تو سیکھے

یزیدیت کا ہے دور اور ظلم بڑھ رہا ہے

خدا کی خاطر سناں پہ چڑھنا کوئی تو سیکھے

جو مال کھاتے ہیں بیکسوں کا وہ لوگ سن لیں

غریب لوگوں کی آہ سے ڈرنا کوئی تو سیکھے

سحر کا دم گھٹ رہا ہے شب کی وحشتوں سے

طلوع صبحِ جمال کرنا کوئی تو سیکھے


عفراء بتول سحر

No comments:

Post a Comment