Sunday, 13 June 2021

کبھی غمگین ہوتا ہوں کبھی میں مسکراتا ہوں

 کبھی غمگین ہوتا ہوں کبھی میں مُسکراتا ہوں

تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو خود کو بھُول جاتا ہوں

تمہیں تو دُشمنوں کی دُشمنی نے مار ڈالا ہے

مجھے دیکھو میں اپنے دوستوں سے زخم کھاتا ہوں

کبھی فُرصت ملے تو دیکھ لینا اک نظر آ کر

تمہاری یاد میں بُجھتی ہوئی شمعیں جلاتا ہوں

میں چلتا جا رہا ہوں آبلہ پا شوق منزل میں

کبھی کوئی شعر کہتا ہوں کبھی کچھ گُنگناتا ہوں

خلیل اب میری آنکھوں میں سنہرے خواب مت بونا

میں پہلے ہی دُکھوں کی کھیتیاں تنہا اُگاتا ہوں


خلیل احمد

No comments:

Post a Comment