مال اسباب خدا جانے کدھر جاتا ہے
جو گھروندہ بھی بناتا ہوں بکھر جاتا ہے
میں بناتا ہوں نئے دن کے خدوخال مگر
کوئی اس خاکے میں تنہائی سی بھر جاتا ہے
روز آتا ہے ادھر تازہ ہوا کا جھونکا
حبس کمرے کا مگر دیکھ کے ڈر جاتا ہے
زندگی تو مجھے آواز تو دے، بات تو کر
تجھ کو سن کر مِرا لہجہ بھی سنور جاتا ہے
وہ تو وہ ہے کہ نہیں کوئی بھی ثانی اس کا
اس کو دیکھوں تو ہر اک چہرہ بِسر جاتا ہے
ریاض ساغر
No comments:
Post a Comment