Wednesday, 10 August 2022

مال اسباب خدا جانے کدھر جاتا ہے

 مال اسباب خدا جانے کدھر جاتا ہے

جو گھروندہ بھی بناتا ہوں بکھر جاتا ہے

میں بناتا ہوں نئے دن کے خدوخال مگر

کوئی اس خاکے میں تنہائی سی بھر جاتا ہے

روز آتا ہے ادھر تازہ ہوا کا جھونکا

حبس کمرے کا مگر دیکھ کے ڈر جاتا ہے

زندگی تو مجھے آواز تو دے، بات تو کر

تجھ کو سن کر مِرا لہجہ بھی سنور جاتا ہے

وہ تو وہ ہے کہ نہیں کوئی بھی ثانی اس کا

اس کو دیکھوں تو ہر اک چہرہ بِسر جاتا ہے


ریاض ساغر

No comments:

Post a Comment