Wednesday, 10 August 2022

میں سمت غیب سے قدموں کی چاپ سنتا ہوں

 میں سمتِ غیب سے قدموں کی چاپ سنتا ہوں

مدیرِ وقت ہوں صدیوں کی چاپ سنتا ہوں

نہ جانے کون ہے، کس کا کلام ہے لیکن

میں گوشِ دہر ہوں صدموں کی چاپ سُنتا ہوں

ہوا جو قتل وہ صدیوں کا نُور تھا شاید

کِنارِ آب، میں نوحوں کی چاپ سُنتا ہوں

گھروں میں جا گتا رہتا ہے خواب کا منظر

مگر میں نیند میں بُوٹوں کی چاپ سُنتا ہوں


احسن سلیم

No comments:

Post a Comment