Wednesday, 10 August 2022

اپنا ہی نام لے کر صدائیں لگائیے

 اپنا ہی نام لے کر صدائیں لگائیے

تنہائیوں کے کرب کو کچھ تو گھٹائیے

مدت سے ذہن برف میں محبوس ہو گئے

سوچوں میں اضطراب کی حِدت بڑھائیے

ڈسنے لگا ہے اب تو سماعت کا ناگ بھی

اپنے لہو کا گیت مت خود کو سنائیے

غیروں سے روشنی کی تمنا نہ کیجئے

اپنی ہی ذات سے کوئی سورج بنائیے

یہ دورِ بے حسی ہے یہاں جسم سرد ہیں

ہونٹوں سے خواہشات کے لاشے اٹھائیے

اپنی روایتوں سے بغاوت نہ کیجئے

دیوانہ آ رہا ہو تو پتھر اٹھائیے

اپنے لہو کا وقت کو نذرانہ دیجیے

تاریکیوں کے نام پر شمعیں جلائیے

یہ دور پتھروں کی نمائش کا دور ہے

بازار میں اب آئینے لے کر نہ آئیے

اپنے لبوں پہ آج تبسم کے رنگ میں

محرومی کے لمحات کو اب بھول جائیے


رضوانہ تبسم درانی

No comments:

Post a Comment