أفکار پریشاں
جلوت میں عاجزی کا مزہ ہم سے پوچھیے
خلوت میں آگہی کا مزہ ہم سے پوچھیے
ہر ہر قدم کے نیچے بچھے سرخ قالیچے
خاروں کی ہمرہی کا مزہ ہم سے پوچھیے
شکوہ نہیں زبان پہ لٹنے کے باوجود
اپنوں کی رہزنی کا مزہ ہم سے پوچھیے
صہبائے تیز و تند مبارک ہو آپ کو
مژگانِ شبنمی کا مزہ ہم سے پوچھیے
گم ہو گیا تو راہ ملی کوئے یار میں
الفت میں بیخودی کا مزہ ہم سے پوچھیے
ہیں جام آبدیدہ تو مِینا شکستہ دل
توہینِ مےکشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
اس رہگزر میں سجدے کیے ہم نے جابجا
احساسِ بندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے
ہر ہر غزل میں ان کو سناتا ہوں ان کا ظلم
راہی! سخنوری کا مزہ ہم سے پوچھیے
اسامہ ابن راہی
No comments:
Post a Comment