یہ چہرہ محبوب پہ سو پھول کِھلے ہیں
یا غازۂ صد رنگ کے سب رنگ جلے ہیں
تعبیر کے امکان سبھی خاک ڈھلے ہیں
ہر خواب پہ تقدیر نے وہ رنگ ملے ہیں
ہم شہر کی مٹی میں اٹے حیلہ گروں سے
گاؤں کے کھیتوں میں جُتے بیل بھلے ہیں
یہ جان تو بے لوث لُٹانی ہی پڑے ہے
یہ جان لُٹانے کے کہاں دام مِلے ہیں
اے حلقۂ احباب ہمیں یاد نہ رکھنا
ہم چھوڑ کے دنیا کا سکوں دشت چلے ہیں
یوں ذات کے کمروں میں نہیں قید ہوئے ہم
دہلیز پہ تشکیک کے سو سانپ پلے ہیں
تم جل کے مِری جان گھڑی بھر ہی دکھاؤ
ہم خواہشِ تکمیل میں جس آگ جلے ہیں
جب ہونٹ کُھلے تھے تو مِری آنکھ سِلی تھی
اب آنکھ کھُلی ہے تو مِرے ہونٹ سِلے ہیں
شہزاد انہیں تجھ سے کوئی کام پڑا ہے
شہزاد تبھی خواب میں وہ آ کے مِلے ہیں
ش زاد
شین زاد
No comments:
Post a Comment