یوں ستاروں میں گرفتار قمر لگتا ہے
جیسے اُلجھا ہوا خود میں ہی بشر لگتا ہے
کیسی ہر شخص کے ماتھے پہ سجی ہے قیمت
شہر کا شہر ہی یوسف کا نگر لگتا ہے
بڑی زرخیز ہے مٹی بھی مِرے آنگن کی
نیا ہر رُت میں تمنا کا شجر لگتا ہے
خود سے نکلوں جو کسی طور تو کچھ سمجھوں میں
مجھ تلک اب تو مِرا سارا سفر لگتا ہے
بعد مرنے کے بھی اُترا نہیں رندوں کا نشہ
کچھ عجب زہرِ محبت کا اثر لگتا ہے
پاؤں پھیلا نہ سکے دیکھ کے چادر جو لوگ
کہتے پھرتے ہیں وہ دیوار سے سر لگتا ہے
لے ہی جائیں گی بہا کر جسے موجیں اکرام
دُور ساحل پہ بنا ریت کا گھر لگتا ہے
اکرام قاسمی
No comments:
Post a Comment