کرشنا مورے
توری اکھیاں، چاند کٹورے
جن کی چاہ میں سرگرداں ہیں
ہنستی شامیں، مست سویرے
سانولے مُکھ پر ایسے دمکیں
جیسے برف کی تہہ میں مہکے ٹھنڈی میٹھی آگ
ایک سے چھلکے پریم کی گاگر
دوجی سے بیراگ
عشق کے متھرا میں کھیلی تھی جس کے
ساتھ رنگولی
رادھا کب تھی، مِیرا تھی وہ، سنگ تِرے جو ہو لی
سمے کی پیشانی سے اُجلی دیکھ تِری پیشانی
پھر کاہے اپنے حصے میں رات بھری حیرانی
تیری سُندرتا کا سورج یُگ میں کرے خرام
رادھا جی کے سیارے پر لیکن ہو گئی شام
تم ہی رام شیام ہمارے، تمہی سدا ہمجولی
قرنوں سے پھر ساتھ ہمارے کیوں یہ آنکھ مچولی
میں ہی یشودا، میں رادھا، تجھے کرشن کنہیا بولوں
صبح چُومے سورج کا ماتھا، میں تیرا مُکھ چُوموں
روشنی کی سُرعت میں لپٹے وقت سے کہہ دے پیارے
ایک کرن بھر پلٹ سکو تو دھنے واد تمہارے
صائمہ علی زیدی
No comments:
Post a Comment