اب نظر آ کہ تھک رہا ہوں میں
کب سے آئینہ تک رہا ہوں میں
آئینہ سا وہ رو برو ہے مِرے
اور پلکیں جھپک رہا ہوں میں
آ گئی ہے زباں میں لکنتِ عشق
بات کرتے اٹک رہا ہوں میں
وہ گلِ شاخِ یاسمین و سمن
سوچ کر ہی مہک رہا ہوں میں
یہ بھی کیا سوچنا پردہ ہو کہ پردہ ہی نہ ہو
کیا تماشا ہو اگر دیکھنے والا ہی نہ ہو
میر احمد نوید
No comments:
Post a Comment