یہ دیکھنے میں جو چار دُکھ ہیں ہزار دُکھ ہیں
جو سر پہ میرے سوار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
یہ اک مسافر سسک سسک کر بتا رہا تھا
کہ گھر سے باہر جو یار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
یوں بچے فاقوں سے مر رہے تھے مگر وہ مفلس
یہ جانتا تھا ادھار دکھ ہیں،۔ ہزار دکھ ہیں
تسلی ہنس کر جو دے رہا تھا،۔ پتا چلا یہ
کہ اس کے بھی بے شمار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
پڑوس میں خود کشی کریں لوگ مُفلسی سے
تو پھر یہ کوٹھی یہ کار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں
بڑے بڑے قہقہے یہ اس کے بتا رہے ہیں
کہ اس کے اپنے ہزار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
جدا نہ ہونے کے ساتھ میرے کیے جو تم نے
وہ سارے قول و قرار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
علاج ان کا میں جانتا ہوں، اگر کرو تم
تمہارے آنے کی مار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
دکھوں سے بھرپور کیسی تُو نے غزل تراشی
سطوروں پر خود نثار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
میں کیسے مہدی بنا ہوں شاعر نہ سن سکو گے
جو اس کہانی میں یار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں
منتظر مہدی
No comments:
Post a Comment