Tuesday, 4 May 2021

کہاں بدلتا ہے منظر نظر بدلنے سے

 کہاں بدلتا ہے منظر نظر بدلنے سے

یہ دُھند کم تو نہیں ہو گی آنکھ ملنے سے

پکڑ لیا میری لو ہی نے میرے دامن کو

میں اک چراغ تھا اور ڈر رہا تھا جلنے سے

وہی چراغ، وہی رات تھی میرے ہر سُو

کسی رُکے ہوئے منظر کا رُخ بدلنے سے

لہو لہو ہوئی موجوں کا اضطراب تو دیکھ

سنہری جھیل میں ماہتاب کے پھسلنے سے

اب آفتاب ہے، نصف النہار، اور سایہ

بِدک رہا ہے میرے ساتھ ساتھ چلنے سے

اُگی ہے ایک نئی آنکھ میری آنکھوں میں

نئی ملی ہے بلا اک بلا کے ٹلنے سے

وہ شاہکار بنا کینوس پہ آخرِ شب

بنا بھی کیسے، فقط میرے ہاتھ مَلنے سے

میں لڑکھڑایا تھا آغاز میں پہ بعد ازاں

مجھے لگا کہ یہ بہتر رہا سنبھلنے سے

کسی کہانی کا انجام کچھ نہیں سعدی

میں دُھول دُھول ہوا پانیوں پہ چلنے سے


رضا اللہ سعدی

No comments:

Post a Comment