Wednesday, 5 May 2021

قدیم دکھ ہے بغیر تیرے نہ شب ڈھلی ہے

قدیم دُکھ ہے

 بغیر تیرے نہ شب ڈھلی ہے

نہ دن ہوا ہے

نہ شاخِ لمحات پر خوشی کا ثمر لگا ہے

عقیم رُت ہے

اُداس آنکھیں

سقیم دل ہے

جسیم دُکھ ہے

بدن میں غم جھیلنے کی ہمت نہیں رہی ہے

کثیف یادیں جو گرد بن بن کے

میری آنکھوں کے آئینوں کو اٹا رہی ہیں

مِری جبیں سے نشان تیرے مٹا رہی ہیں

بنے ہوئے ہیں اُجاڑ آنکھوں کے گرد گھیرے

تھکن کے گھیرے

کہ میرے بستر کی سلوٹوں میں مقیم دُکھ ہے

قدیم دُکھ ہے


اویس علی

No comments:

Post a Comment