Thursday, 6 May 2021

دیکھا تھا فقط زلف کو شانوں سے کمر تک

 دیکھا تھا فقط زُلف کو شانوں سے کمر تک

پائی نہ کہیں دل نے تو پھر اپنی خبر تک

قدموں میں تِرے بیٹھا ہے دلدار کی صورت

جو دل نہ گیا چل کے کسی راہ گزر تک

پھرتے ہیں وہ اکثر لیے آئینہ جہاں میں

دیکھا ہے جنہیں عشق نے حیرت کی نظر تک

خود نقشِِ قدم اپنے مِٹانے پہ تُلے ہیں

واقف تھے جو ساحل سے سمندر کے بھنور تک

دیکھے ہیں بہت تم نے سزا یافتہ مجرم

قیدی ہُوں میں زِنداں کا شبِ غم کی سحر تک

دنیا کی محبت میں یہی جانا ہے اکرام

زہراب کئی رنگوں میں ڈھلتا ہے اثر تک


اکرام قاسمی

No comments:

Post a Comment