Monday, 3 May 2021

میری شاعرہ کبھی تم جو میرے شہر میں آؤ

 میری شاعرہ


میری شاعرہ

کبھی تم جو میرے شہر میں آؤ

تو دیکھنا

ان راستوں کو

جن پر چلتے ہوئے میں نے تمہیں سوچا ہو گا

کیسے تمہارے استقبال میں خود کو سجائے بیٹھے ہوں گے وہ رستے

دل جلائے بیٹھے ہوں گے

تم جب آؤ گی

تو دیکھنا

ہزاروں نگاہیں تمہارے لیے فرشِ دلِ راہ ہوں گی

لاکھوں دل

تمہارے اندازِ تکلم پر

دھڑکیں گے

ہزاروں آوازیں تمہیں پکاریں گی

مگر

ایک آواز

وہ ایک آواز

جو تمہیں سب سے اچھی لگتی تھی

جسے تم اپنا کہتی تھیں

اُسے اس کے وجود سمیت

ظالم وقت نے

منوں مٹی تلے دفن کر دیا ہو

اور تم محبت سے لبریز

جذبوں کی

دلخراش چیخوں کراہوں کی دھول

اپنے آنسوؤں سے دھوتی

یونہی

بے رونق آنکھیں لیے لوٹ جاؤ گی

موت کی پاتال میں

جانے کس حال میں؟


اکرام قاسمی

No comments:

Post a Comment