میری شاعرہ
میری شاعرہ
کبھی تم جو میرے شہر میں آؤ
تو دیکھنا
ان راستوں کو
جن پر چلتے ہوئے میں نے تمہیں سوچا ہو گا
کیسے تمہارے استقبال میں خود کو سجائے بیٹھے ہوں گے وہ رستے
دل جلائے بیٹھے ہوں گے
تم جب آؤ گی
تو دیکھنا
ہزاروں نگاہیں تمہارے لیے فرشِ دلِ راہ ہوں گی
لاکھوں دل
تمہارے اندازِ تکلم پر
دھڑکیں گے
ہزاروں آوازیں تمہیں پکاریں گی
مگر
ایک آواز
وہ ایک آواز
جو تمہیں سب سے اچھی لگتی تھی
جسے تم اپنا کہتی تھیں
اُسے اس کے وجود سمیت
ظالم وقت نے
منوں مٹی تلے دفن کر دیا ہو
اور تم محبت سے لبریز
جذبوں کی
دلخراش چیخوں کراہوں کی دھول
اپنے آنسوؤں سے دھوتی
یونہی
بے رونق آنکھیں لیے لوٹ جاؤ گی
موت کی پاتال میں
جانے کس حال میں؟
اکرام قاسمی
No comments:
Post a Comment