اڑ کے جاتی ہے تو اب اے مُشتِ خاک کہاں
دل کی وسعت کے برابر بھلا افلاک کہاں
آنکھ بے نور ہوئی ہے تو سمجھ پایا ہوں
دل میں زرخیز تمنا کی تھی خوراک کہاں
کشتئ جاں کو تھپیڑوں کے حوالے کر کے
لے کے پتوار ہُوا گم ترا پیراک کہاں؟
ایک حکمت ہے یہ الفاظ کی ترتیب کا فن
سب کو شعروں کے قرینے کا ہے ادراک کہاں
بد دُعا جن کو محبت کی لگی ہے اکرام
جانے کرتے ہیں رفو جامۂ صد چاک کہاں
اکرام قاسمی
No comments:
Post a Comment