مجھے جاگنا جب پڑے گا
تو میں گھر کے دیوار و در پر
مرتب کروں گی کتابیں
مجھے سوچنا جب پڑے گا
تو میں موت سے زندگی کو
ملاتے ہوئے دائرے پر چلوں گی
مجھے دیکھنا جب پڑے گا
تو میں نوکِ نشتر سے
ہاتھوں پہ تازہ لکیریں بنا کر
انہیں اپنی آنکھوں کی
تحویل میں چھوڑ دوں گی
مجھے بولنا جب پڑے گا
تو میں اچھے لفظوں میں
گمنام لوگوں کی باتیں کروں گی
مجھے ہارنا جب پڑے گا
تو میں رائیگانی کا نقشہ
بناؤں گی تلووں پہ
اور جانے دوں گی اسے
جس کو جانے کی جلدی ہوئی
یاسمین حمید
No comments:
Post a Comment