تُو ایک بار نہیں کہتا مجھ کو پیار کے ساتھ
میں خود کو جانے نہیں دیتا اپنے یار کے ساتھ
نہ تُو سلیم ہے کوئی،۔ نہ میں انار کلی
مگر لگاؤ بہت ہے تری دِوار کے ساتھ
یہ شاعری ہے یہاں سب تصوراتی ہے
مگر وہ وقت جو گزرا ہے میرا یار کے ساتھ
میں زہر کھا کے محبت کو گولی مار آیا
کِیا ہے قتل مصور کو شاہکار کے ساتھ
ترے بغیر کبھی رہ نہیں سکوں گا میں
اتر گیا تُو مرے دل سے اس خمار کے ساتھ
جدا کِیا تھا تمہیں خود سے تا کہ دیکھ سکوں
یہاں سے تم کہاں جاتے ہو میرے بار کے ساتھ
شہباز مہتر
No comments:
Post a Comment