دل مرا اس سے بھر گیا شاید
کچھ تو ایسا وہ کر گیا شاید
ہُو کا عالم ہے دل کے آنگن میں
کوئی چپکے سے مر گیا شاید
لوگ الفت میں جان دیتے ہیں
اپنا لگتا ہے سر گیا شاید
اشک اب آنکھ میں نہیں آتے
دل کا دریا اتر گیا شاید
پاؤں میں آبلے نہیں لایا
رائیگاں یہ سفرگیا شاید
عابد اپنی گلی ہی بھول گیا
بعد مدت کے گھر گیا شاید
ایس ڈی عابد
No comments:
Post a Comment