جب میری آنکھوں سے آئینہ ہٹ گیا
میں ریزہ ریزہ ہو کر کئی حصوں میں بٹ گیا
راس نہ آئی اپنی محنت کی کمائی
مسافر کیا کرے جو سفر میں لٹ گیا
چاند کا رخ کبھی میرے آنگن میں تھا
مگر اب جانے کس دیوار میں چمٹ گیا
دنیا کی رونقیں پھر ماند پڑ گئیں
جب تِرا چہرہ نگاہوں سے ہٹ گیا
صدیوں کی تھکن اک لحظے میں اتر گئی
وہ اک گھڑی جو مجھ سے لپٹ گیا
مے کے عادی آنکھوں سے ہو گئے تھے
مے خانہ جاتے ہوئے دم گھٹ گیا
صیاد کی گرفت سے تب جا چھوٹے آثار
جب عزرائیل آ کر ہم سے لپٹ گیا
سراج آثار
No comments:
Post a Comment