Tuesday, 5 October 2021

جب میری آنکھوں سے آئینہ ہٹ گیا

 جب میری آنکھوں سے آئینہ ہٹ گیا

میں ریزہ ریزہ ہو کر کئی حصوں میں بٹ گیا

راس نہ آئی اپنی محنت کی کمائی

مسافر کیا کرے جو سفر میں لٹ گیا

چاند کا رخ کبھی میرے آنگن میں تھا

مگر اب جانے کس دیوار میں چمٹ گیا

دنیا کی رونقیں پھر ماند پڑ گئیں

جب تِرا چہرہ نگاہوں سے ہٹ گیا

صدیوں کی تھکن اک لحظے میں اتر گئی

وہ اک گھڑی جو مجھ سے لپٹ گیا

مے کے عادی آنکھوں سے ہو گئے تھے

مے خانہ جاتے ہوئے دم گھٹ گیا

صیاد کی گرفت سے تب جا چھوٹے آثار

جب عزرائیل آ کر ہم سے لپٹ گیا


سراج آثار

No comments:

Post a Comment