دیکھو ان کے غصے کی شدت توبہ توبہ
نہ کرسکے کچھ کہنے کی جرأت توبہ توبہ
کبھی ہم بھی گناہوں پہ رو لیں
پر نہیں ملتی تم سے فرصت توبہ توبہ
ہر گھڑی ہر پل رونا ہی تیرا مشغلہ
کیا یہی ہے انجام محبت توبہ توبہ
اک نظر اٹھا کر تُو نے خرید لیا
بادشاہوں کی عجب حکومت توبہ توبہ
دنیا کی محبت رکھ کر دل میں
کرنے چلا ہے زمانے کو نصیحت توبہ توبہ
سر تا پا میں نے دیکھا ہے یار کا جلوہ
اب بھلا کیسے کروں ذکرِ قیامت توبہ توبہ
یوں اکڑتے ہو جیسے مرنا نہیں
کتنی شدت کا ہے عذاب تربت توبہ توبہ
باپ، بیٹی، بھائی بہن اک ساتھ دیکھیں فلمیں
شرم و حیا ہو گئی رخصت توبہ توبہ
ساری دنیا سے کٹ کر تیرا ہوا آثار
جلے دنیا دیکھ کر میری قسمت توبہ توبہ
سراج آثار
No comments:
Post a Comment