Monday, 4 October 2021

چھوٹی سی یہ بات سہی پر کھینچے ہے یہ طول میاں

 چھوٹی سی یہ بات سہی پر کھینچے ہے یہ طول میاں

جیون بھر کا روگ بنے ہے دو آنکھوں کی بھول میاں

کانٹوں نے جو زخم لگائے وہ مانا بھر جائیں گے

ان زخموں کو کیسے بھرو گے جن کو لگائیں پھول میاں

سُکھ ڈھونڈو گے دُکھ پاؤ گے پرِیت کے بدلے جلتے آنسو

رِیت یہی اس جگ کی پیارے، اس جگ کا معمول میاں

پیار وفا کا چلن نہ ہو گر دل سے دل کو راہ نہ ہو

ایسی روش تو اس دنیا کو کر دے گی مجہول میاں

روپ کی دیوی رام نہ ہو گی چِلہ کھینچو، جوگ کرو

لاکھ لگاؤ تم آنکھوں سے ان چرنوں کی دُھول میاں

سید جی کے گیت کبت سب سنتے ہیں سر دُھنتے ہیں

پریم کتھا کے رسیا اک دن کھولیں گے سکول میاں


شکیل دسنوی

No comments:

Post a Comment