Monday, 4 October 2021

بہاروں سے پہلے جو آنکھوں پہ بیتی وہ اتنی کٹھن تھی

 بہاروں سے پہلے جو آنکھوں پہ بیتی، وہ اتنی کٹھن تھی کہ مشکل بیاں ہے

دلوں پر مگر جو سکینت تھی طاری، انہیں کیا خبر وہ بعید از گماں ہے

تمہیں نے یہ دعویٰ کیا تھا زمیں پر کہ امر اس کا ہو گا یہ جس کا جہاں ہے

تمہیں نے یہ اعزاز پایا جبیں پر، شہادت کا تمغہ جو اب گل فشاں ہے

نہ مغرب سے پندارِ قیصر ہی چُھوٹا، نہ طیبہ سے مشرق کا رشتہ ہی ٹُوٹا

یہ صدیوں پرانی کہانی کا جُز ہے، خلیج ایک حائل جو اب درمیاں ہے

نبیؐ ہی کی دعوت کا ہے فیض جاری، وگرنہ یہ ہمت یہ کوشش ہماری

انہی کی اطاعت ہے منزل ہماری، یہی کشتئ نوحِ عصرِ رواں ہے

عجب اک تصور امیرِ حرم نے، بُتوں سے عداوت کا کل شب دیا ہے

کہ خود بتکدے میں چراغاں ہے کل سے، حرم کی فضاؤں میں لیکن دُھواں ہے


احسن عزیز مرزا

No comments:

Post a Comment