رات آنکھوں میں کئی خواب پُرانے جاگے
خواب بننے کے بگڑنے کے زمانے جاگے
دل کو سمجھایا کئی بار؛ بھول جا اس کو
ہم اسے یاد نہ کرنے کے بہانے جاگے
سارے عالم کی حقیقت سے چُرائی جو نظر
تجھ سے ملنے کے بچھڑنے کے فسانے جاگے
روز تکیے کو بھگوتے ہیں تیری یادوں سے
ہر نشاں درد کا کل رات مٹانے جاگے
دام لگ جائیں گے بازار میں یادوں کےکبھی
ہم تِری یاد کے چند سِکے کمانے جاگے
کیسے سو پائے کوئی شور میں ان یادوں کے
تیرے وعدوں، تیری باتوں کو بُھلانے جاگے
دل سے رُخصت کیا احباب کی ہر محفل کو
اپنی تنہائی کا خود جشن منانے جاگے
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment