ہجر کی زیر لب اذانوں سے
میری آنکھوں کا غسل جاری ہے
اک جنم اور چاہیے مجھ کو
زیست یہ تیرے لیے گزاری ہے
مجھ میں پیوست ہو گئے ہیں وہ
کتنا میرا وجود بھاری ہے
کون سنتا ہے میری آہ و فغاں
کس میں یہاں غمخواری ہے؟
ھم نے تیرے بغیر بھی ھم دم
زندگی ترے ساتھ ہی گزاری ہے
اس گلی سے مڑوں میں کیسے بھلا
وہیں میری کھڑی سواری ہے
وہ فقط ایک شخص کب ہے سراج
وہ میری کائنات ساری ہے
سراج آثار
No comments:
Post a Comment