Tuesday, 15 December 2020

ہجر کی زیر لب اذانوں سے

 ہجر کی زیر لب اذانوں سے

میری آنکھوں کا غسل جاری ہے

اک جنم اور چاہیے مجھ کو

زیست یہ تیرے لیے گزاری ہے

مجھ میں پیوست ہو گئے ہیں وہ

کتنا میرا وجود بھاری ہے

کون سنتا ہے میری آہ و فغاں

کس میں یہاں غمخواری ہے؟

ھم نے تیرے بغیر بھی ھم دم

زندگی ترے ساتھ ہی گزاری ہے

اس گلی سے مڑوں میں کیسے بھلا

وہیں میری کھڑی سواری ہے

وہ فقط ایک شخص کب ہے سراج

وہ میری کائنات ساری ہے


سراج آثار

No comments:

Post a Comment