روم روم میں درد بسائے بیٹھے ہیں
یادوں کا انبار لگائے بیٹھے ہیں
ایک ہی روشندان تھا دل کی کُٹیا کا
اس پر بھی دیوار اُٹھائے بیٹھے ہیں
درد کا گاہک شاید کوئی آ نکلے
زخموں کا بازار سجائے بیٹھے ہیں
چاند یقیناً آج زمیں پر اُترے گا
صحن میں یوں وہ زُلف بچھائے بیٹھے ہیں
لوٹے ہیں دریا کے کنارے سے پیاسے
دشت سے ہم اب آس لگائے بیٹھے ہیں
ذاتِ انا کے ریزے ہاتھوں میں لے کر
پور پور اپنی زخمائے بیٹھے ہیں
غیروں سے کس منہ سے شکوہ کرتے ہم
اپنے آپ سے دھوکہ کھائے بیٹھے ہیں
اشک تو دل میں صدیوں پہلے اُترے تھے
آج یہ کیوں طُوفان اُٹھائے بیٹھے ہیں
ثبین سیف
No comments:
Post a Comment