Monday, 7 June 2021

پیڑ کی شاخ تو کھڑکی سے ابھی جھانکتی ہے

 پیڑ کی شاخ تو کھڑکی سے ابھی جھانکتی ہے

دھوپ کس ڈر سے توجہ میں کمی مانگتی ہے

خواب اور نیند کی پابند نِگہ داری میں

آنکھ، دستور مطابق ہی تجھے جانتی ہے

مرنے والے یہ تِرے صبر کا صدقہ ہے مجھے

زندگی، اب مِرے حصے کا مجھے ڈانٹتی ہے

دن چڑھے، خواب اُدھڑنے کی خبر ملتی تھی

اب تو اک گڑیا مِری آنکھ میں دل ٹانکتی ہے

گندمی آگ! میں تجھے جسم بنا سکتا ہوں

اور تُو اندر کسی جھرنے سے نمی چھانٹتی ہے

گاؤں اور ماؤں سے بچھڑے ہوئے رستوں کی طرف

کچے پن میں بھی مِری نیند بہت بھاگتی ہے


علی زیرک

No comments:

Post a Comment