کوئی کہکشاں کہکشاں گھومتا ہے
کوئی در بدر رائیگاں گھومتا ہے
یہ کیسا نشہ ہے محبت کا تیری
میں ساکت کھڑی ہوں، جہاں گھومتا ہے
یہ ساحل بہت ہے ہمیں ڈوبنے کو
سمندر یونہی بد گماں گھومتا ہے
یہ خود کوزہ گر بھی کہاں جانتا ہے
کوئی چاک پر کب کہاں گھومتا ہے
سنا ہے کوئی آستینوں میں چھپ کر
سرِ محفلِ دوستاں گھومتا ہے
کہیں یہ تِرا ہجر ہی تو نہیں ہے
جو تیرے مِرے درمیاں گھومتا ہے
جسے جھلملانا تھا آنکھوں میں سیما
وہ دن رات مجھ میں نہاں گھومتا ہے
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment