Monday, 7 June 2021

گرد راہ میں بدل رہا ہوں میں

 گردِ راہ میں بدل رہا ہوں میں

پر تِرے ساتھ چل رہا ہوں میں

دُھند بادل دُھویں کی بات نہیں

وقتِ مغرب ہے، ڈھل رہا ہوں میں

تُو بہت دور ہے یا تیری طرف

اُلٹے قدموں سے چل رہا ہوں میں

میں ہوں مشکل میں اور یاد ہے نا

تیری مشکل کا حل رہا ہوں میں

تیرے رستوں پہ چند سال چلا

اور تا عمر شل رہا ہوں میں

جسم تو سرد پڑ گیا، لیکن

لوگ کہتے ہیں جل رہا ہوں میں

جو تمہیں آج کل میسر ہے

اس کا نعم البدل رہا ہوں میں


علی قائم نقوی

No comments:

Post a Comment