گلاب جسم تھا اور اِسم تھا صبا اس کا
ہمیں ہوا نے فراہم کیا پتا اس کا
وہ ناریل کی مہک ساتھ لے کے آئی تھی
قیام ساحلی جنگل کے پار تھا اس کا
ٹھہر کے تتلیاں تکتی تھیں سرخ ہونٹوں کو
اُتر کے سنتی تھی ہر کُونج قہقہہ اس کا
وہ پہلی بار جب اس دشت سے گئی ہو کر
حصار کرتی تھی اک شبنمیں دعا اس کا
سُبک خرامی میں رشکِ غزال تھے وہ قدم
نشان تک نہیں رکھتا تھا راستہ اس کا
زمینِ دل پہ وہ اتری تھی روشنی کی طرح
ہمارے واسطے مہتاب تھا دیا اس کا
وہ جس سے ہاتھ ملاتی تھی مسکراتے ہوئے
سوال رد نہیں کرتے تھے دیوتا اس کا
عدنان محسن
No comments:
Post a Comment