غمِ حیات کو سہنے کا حوصلہ نہ رہا
تمہارے بعد تو خود سے بھی رابطہ نہ رہا
پھر اس کے بعد اندھیروں کا رقص ہونے لگا
ہوائے جبر میں قائم جو اک دِیا نہ رہا
وہ میری روح کے اندر سموئی اک تصویر
وہ میری سوچ کا منظر جو اب ہرا نہ رہا
گزر گئے جو سمے آئینے میں ڈھونڈوں کہاں
شکستہ پائی میں چلنے کا حوصلہ نہ رہا
مِری نگاہ بھٹکتی رہی اندھیروں میں
میری نظر میں اُجالوں کا سلسلہ نہ رہا
میں خود کو ڈھونڈنے نکلی ہوں یاد کے صحرا
مجھے سفر کی صعوبت کا ڈر ذرا نہ رہا
یہ کیسا ظلم ہے اب تک زمین سہتی ہے
یہ کیسا عہد ہے جس میں کہیں خدا نہ رہا
وجود چھلنی ہوا ہے تو دل کا دُکھ کیسا
یہ کرچیاں سی پڑی ہیں اب آئینہ نہ رہا
ہزار راستے اس در کی سمت جاتے تھے
وہ ایک در جو کبھی اس کا راستہ نہ رہا
زمین کے دُکھ میں کئی پیڑ مر گئے ایسے
سمے کی دُھوپ میں جل کر کوئی ہرا نہ رہا
عجیب عالمِ تنہائی میں مقید ہوں
وہ گفتگو مِرا خود سے مکالمہ نہ رہا
یہ سانحہ ہے محبت کا کیا کہوں نورین
مِرا خیال بھی اس کو رہا رہا نہ رہا
صائمہ نورین
No comments:
Post a Comment