خود فریبی کی کسی حد کو نہیں مانتی ہے
قامتِ شوق کسی قد کو نہیں مانتی ہے
بُوئے گُل ہو، کہ ہوا ہو، کہ محبت کہ وبا
اتنی سرکش ہے کہ سرحد کو نہیں مانتی ہے
وہ اندھیروں کا پجاری ہے اسے کیا معلوم
روشنی رات کی آمد کو نہیں مانتی ہے
یہ تِرا نام و نسب دل کے نہ کام آئے گا
یہ محبت ہے کسی حد کو نہیں مانتی ہے
عشرت معین سیما
No comments:
Post a Comment