Tuesday, 9 November 2021

کبھی پکار کے دیکھا کبھی بلائے تو

 کبھی پکار کے دیکھا کبھی بلائے تو

حدود ذات سے آگے نکل کے آئے تو

پلا رہا ہے نگاہوں کو تیرگی کا لہو

فصیل جاں پہ وہ کوئی دیا جلائے تو

سجائے رکھوں گی اپنے گمان کی دنیا

مِرے یقین کی منزل پہ کوئی آئے تو

یہ آنکھیں نیند کو ترسی ہوئی ہیں مدت سے

وہ خواب زار شبستاں کوئی دکھائے تو

غرور عشق کے آداب سیکھ جائے گا

کبھی وہ روٹھ کے دیکھے کبھی منائے تو

ہوا کی چاپ میں شامل ہیں آہٹیں اس کی

سلیقہ دل کو دھڑکنے کا بھی سکھائے تو


آسناتھ کنول

No comments:

Post a Comment