Tuesday, 9 November 2021

شروع ہے مرحلہ مہر و وفا کا

 شروع ہے مرحلہ مہر و وفا کا

مسلسل سلسلہ قہر و بلا کا

وہ چہرہ دھند ہوتا جا رہا ہے

جو پرتو تھا کبھی نور و ضیا کا

کسے در پیش خونی کربلا ہے

فضا میں وِرد ہے رجز و ثنا کا

ہمیں اے عشق! تُو نے مار ڈالا

ہمی تو درس دیتے تھے وفا کا

ابھی کم سِن ہو، اٹھلاؤ ابھی تم

ابھی دیکھا نہیں چہرہ جفا کا


الطاف فیروز

No comments:

Post a Comment