Tuesday, 9 November 2021

ذکر بہار بھی رہا ذکر خزاں کے ساتھ

 ذکر بہار بھی رہا ذکرِ خزاں کے ساتھ

تیری بھی داستاں ہے مِری داستاں کے ساتھ

ان کا بھی کچھ خیال رہے اہلِ کارواں

جو آ رہے ہیں گردِ رہِ کارواں کے ساتھ

اس وقت رنگ لائے گا افسانۂ وفا

دل کا لہو جب آئے گا اشکِ رواں کے ساتھ

ہر چیز اجنبی سی ہے ہر شخص غیر ہے

دنیا بدل گئی نِگہِ مہرباں کے ساتھ

شارب یہ جانتا ہوں کہ دنیا ہے بے وفا

چلنا پڑے گا پھر بھی اسی کارواں کے ساتھ


شارب لکھنوی

No comments:

Post a Comment