Tuesday, 8 March 2022

صندل جیسی دعا

 صندل جیسی دعا


کوئی بتلائے

اس سر زمین کا مقدر ابھی تک

کس لیے خاک و خوں سے ہے آلودہ آخر

کس لیے روز اٹھتے ہیں تازہ جنازے وہاں پر

کس لیے غم کی دیوار گرتی نہیں

روز سجتے ہیں کیوں موت کے اتنے میلے

ظلم کی آندھیاں کب تلک

سر سے عصمت کےچھینیں گی رنگین ردائیں

تار تار ان کے آنچل ہیں گریہ کناں

ان کی آغوش ویران ہوتی ہے ہر دن

اور وہ صبر سے اپنے ٹوٹے دلوں کو

زندہ کرتی ہیں پھر اک نئے عزم کی روشنی سے

ظالموں، قاہروں، جابروں سے

یہ لڑتے ہوئے زندہ انساں

انقلاب مسلسل کی تاریخ لکھتے ہیں اپنے لہو سے

ہم نے ارض فلسطین کا جب بھی تصور کیا ہے

اس کی صندلی سی بھینی خوشبو

اک دعا کی طرح پھیلتی ہے فضا میں

کامراں ہوں فلسطیں کے سارے باسی

تو ختم ہو زندگی کی اداسی


شمع افروز

No comments:

Post a Comment