Tuesday, 8 March 2022

خوشی کا گیت نہیں ہوں نہ گا دیا گیا ہوں

 خوشی کا گیت نہیں ہوں نہ گا دیا گیا ہوں

میں ایک نوحہ ہوں رو کر سنا دیا گیا ہوں

کھدائی کر کے مجھے پائے کوئی قدر شناس

اسی لیے میں دفینہ بنا دیا گیا ہوں

مِلا نہیں تھا اسے، راہ میں پڑا ہوا میں

جو مالِ مفت سمجھ کر لُٹا دیا گیا ہوں

نظر نہ آئے کسی کو بھی مجھ میں عکس اپنا

کہ ہوں تو آئینہ، اُلٹا لگا دیا گیا ہوں

ثبوت اسی کو سمجھیے مِرے کھرے پن کا

بطورِ سِکۂ رائج لیا، دیا گیا ہوں

پھر اس کے بعد کے احوال کچھ نہیں معلوم

جب آئی رنگ پہ محفل، اُٹھا دیا گیا ہوں

میں سادہ لوح کھلاڑی، زمانہ شاطر تھا

ہر ایک کھیل میں سورج! ہرا دیا گیا ہوں


صدیق سورج

No comments:

Post a Comment