Tuesday, 8 March 2022

بیٹھا ہوں اپنی ذات کا نقشہ نکال کے

 بیٹھا ہوں اپنی ذات کا نقشہ نکال کے

اک بے زمین ہاری ہوں صحرا نکال کے

ڈھونڈا بہت مگر کوئی رستہ نہیں ملا

اس زندگی سے تیرا حوالہ نکال کے

الماری سے ملے مجھے پہلے پہل کے خط

بیٹھا ہوا ہوں آپ کا وعدہ نکال کے

ہم رفتگاں سے ہٹ کے بھی دیکھیں تو شعر میں

موضوع کم ہی بچتے ہیں نوحہ نکال کے

ملنا کہاں تھا سہل درِ آگہی مجھے

آیا ہوں میں پہاڑ سے رستہ نکال کے

واعظ نہال آج خوشی سے ہے کس قدر

اک تازہ اختلاف کا نکتہ نکال کے

منعم کو اس نوالے کی لذت کا کیا پتہ

مزدور جو کمائے پسینہ نکال کے

حالات کیا غریب کے بدلے کہ ہر کوئی

لے آیا ہے قریب کا رشتہ نکال کے

جاذبؔ کہاں خبر تھی کہ ہے باز تاک میں

ہم شاد تھے قفس سے پرندہ نکال کے


اکرم جاذب

No comments:

Post a Comment