زخمی ہیں پاؤں پاؤں کے چھالوں کی خیر ہو
اے خطۂ جنوں تِرے رستوں کی خیر ہو
گا کر کسی وجود کا نغمہ تمام رات
جلتے ہیں جو ہوا میں چراغوں کی خیر ہو
دیتے ہیں روز مجھ کو نئے ذائقوں کے زخم
اے شہرِ بے اماں! تِرے بندوں کی خیر ہو
ہجرت کا کہہ رہے تھے پرندے تمام تر
گاؤں میں جو کھڑے ہیں درختوں کی خیر ہو
دیتے ہیں تجربہ بھی دعاؤں کے ساتھ ساتھ
ملت کے سارے بوڑھے بزرگوں کی خیر ہو
غصے میں جا رہے تھے شکاری شکار کو
یا رب! مِری دعا ہے پرندوں کی خیر ہو
کرتے ہیں جو بھی شاہ کا ماتم مِرے خدا
سارے ہی بے مثال ہیں ساروں کی خیر ہو
اسد رضا سحر
No comments:
Post a Comment