تاریکی نہیں دن کے اجالے بھی سیہ ہیں
مسکان سیہ ہو گئی، نالے بھی سیہ ہیں
گہنائے ہوئے چاند کی کرنیں ہیں سیہ پوش
خورشید تِرے سارے حوالے بھی سیہ ہیں
اس جادۂ منزل کی سیاہی سے پریشاں
پیروں میں مچلتے ہوئے چھالے بھی سیہ ہیں
یہ جسم کہ گزرا ہے سیہ وقت سے ہوکر
اور روح سے چمٹے ہوئے جالے بھی سیہ ہیں
ہمدرد بظاہر تو نظر آتے ہیں، لیکن
اندر سے مِرے چاہنے والے بھی سیہ ہیں
ہم کارِ جہاں میں یوں سیہ کار ہی ٹھہرے
سرزد جو ہوئے ہم سے ازالے بھی سیہ ہیں
اس سطرِ سیہ بخت کو کیا کیجیۓ کاشف
اطراف سے گھیرے ہوئے ہالے بھی سیہ ہیں
کاشف علی ہاشمی
No comments:
Post a Comment