Thursday, 11 August 2022

ایک بے حاصل طلب بے نام اک منزل بنا

 ایک بے حاصل طلب بے نام اک منزل بنا 

ٹوٹنے کے بعد ہی دل در حقیقت دل بنا

منزلیں ہی کیا نیا ہر جادۂ منزل بنا 

لیکن اپنے آپ کو پہلے کسی قابل بنا

ہم فریبِ رنگ و بُو کھا کر بھی آگے بڑھ گئے 

کم نگاہوں کے لیے ہر مرحلہ مشکل بنا

کس قدر عہد آفریں عالم ہے تیری ذات کا 

جو تِری محفل میں آیا وہ خود اک محفل بنا

غم سے نامانوس رہنے تک تھیں ساری تلخیاں 

رفتہ رفتہ غم ہی اپنی عمر کا حاصل بنا

پی گئے کتنے ہی آنسو ہم بہ نام زندگی 

ایک مُدت میں کہیں دل درد کے قابل بنا

جذبۂ منزل سلامت راستوں کی کیا کمی 

ہم جدھر نکلے، نیا اک جادۂ منزل بنا

ہر مقامِ زندگی پر تھا مِرا عالم جُدا 

میں کہیں طوفاں کہیں کشتی کہیں ساحل بنا

تبصرے کرنے لگے ہیں لوگ حسب حوصلہ 

شوق! آسانی سے میں کچھ اور بھی مشکل بنا


خواجہ شوق

No comments:

Post a Comment