عدو ساری خدائی ہو چکی بس
محبت میں کمائی ہو چکی بس
قیامت، بے ادائی ہو چکی بس
غضب تیری جدائی ہو چکی بس
ہوئی ہے درپئے جاں اب ہمیں تو
کٹھن تجھ تک رسائی ہو چکی بس
بھنور مجھ کو ملے اب یا کنارا
تمہاری ناخدائی ہو چکی، بس
مجھے تم شیخ جی! رہنے دو یوں ہی
بہت عقدہ کشائی ہو چکی بس
مِرے ساقی! پلا پھر شربتِ مے
بہت اب پارسائی ہو چکی بس
کہا مانوں تِرا صیاد! کیوں کر
مقدر میں رِہائی ہو چکی بس
چلے ہیں لوگ اٹھ کر بزم سے پھر
تمہاری رونمائی ہو چکی بس
غزل کہنا نہیں آسان رومی
بہت زور آزمائی ہو چکی بس
خالد رومی
No comments:
Post a Comment